ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل : 5 سال سے جیل میں بند ملزم نے کھٹکھٹایا دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ۔تیز رفتار سماعت اور ضمانت پر رہائی کا کیا مطالبہ؛ 5 مئی کو ہوگی سماعت

بھٹکل : 5 سال سے جیل میں بند ملزم نے کھٹکھٹایا دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ۔تیز رفتار سماعت اور ضمانت پر رہائی کا کیا مطالبہ؛ 5 مئی کو ہوگی سماعت

Wed, 14 Apr 2021 13:23:15    S.O. News Service

بھٹکل 14؍ اپریل (ایس او نیوز) انڈین مجاہدین کارکن ہونے کے الزام میں گزشتہ تقریباً پانچ سال سے دہلی کی تیہاڑ جیل میں قید عبدالواحد  سیدّی باپا نے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے مانگ کی ہے کہ یو اے پی اے قانون کے تحت اس پر دائر مقدمہ کی سماعت تیز رفتاری سے کی جائے اور چونکہ اس میں غیر معمولی تاخیر ہوچکی ہے اور جلد سماعت مکمل ہونے کے آثار بھی نہیں ہیں اس لئے اُسے ضمانت پر رہا کردیا جائے۔

عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے این آئی اے سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا  جواب داخل کرے۔ دہلی بینچ کی طرف سے جسٹس سدھارتھ میریدول اور آنوپ جئے رام بھمبانی نے این آئی اے کو نوٹس جاری کی ہے اور 6 مئی کو اس معاملے کی سماعت کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

عبدالواحد سدی باپا نے اپنے وکیلوں  کے توسط سے  داخل کی گئی اپیل میں مقدمہ کی سماعت میں ہورہی غیر معمولی تاخیر کی وجہ  سے اپنے اُس  بنیادی حق کی خلاف ورزی کا مسئلہ اجاگر کیا ہے، جس کے تحت ملزم کواُس کے مقدمہ کی تیزرفتار، آزادانہ اور منصفانہ سماعت ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ درخواست گزار نے ہائی کورٹ سے مانگ کی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے لئے این آئی اے کو ہدایات جاری کی جائیں۔

ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتےہوئے  عبدالواحد کے  ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے بتایا کہ  ہائی کورٹ میں ضمانت کے تعلق سے 6 مئی  کو سماعت  ہوگی۔ انہوں نے عوام الناس سے درخواست کی کہ آپ دُعا کریں کہ  اتنے عرصے سے جیل میں بند اس نوجوان کی  ضمانت منظور ہوجائےاور مقدمہ کی سماعت تیز رفتاری سے  ہو۔

یاد رہے کہ این آئی اے نے عبدالواحد پر الزام  لگایا ہے کہ   وہ انڈین مجاہدین کے شریک بانی یاسین  کا رشتہ دار ہے۔ این آئی اے کی طرف سے 2012 میں داخل کی گئی  چارج شیٹ کے مطابق انڈین مجاہدین کے اراکین ملک اور بیرون ملک میں پھیلے اپنے سلیپر سیلس کے ذریعہ مختلف اہم مقامات پر دہشت گردانہ کارروائی انجام دینے کی سازش کر رہے تھے۔ جس میں پاکستان میں موجود اپنے شرکاء کی مدد سے خاص کرکے دہلی میں بم دھماکے کرنے کا منصوبہ شامل تھا۔ اس طرح ملک کے خلاف جنگ کی تیاری کی جارہی تھی۔

این آئی اے کے مطابق عبدالواحد انڈین مجاہدین کے لئے نقل و حمل کی حمایت (لاجسٹک سپورٹ) فراہم کررہا تھا۔ جس کے تحت وہ انڈین مجاہدین کے لئے کارکنان کی بھرتی اور رقم کے انتظامات دیکھا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستان سے ریاض  کے ذریعہ دبئی بھیجے گئے کارکنان کے لئے انتظامات کرنا بھی  اس کی ذمہ داری تھی۔

اسی پس منظراور الزامات کے تحت این آئی اے نے عبدالواحد کو دبئی سے ڈپورٹ کرکے نئی دہلی  اندراگاندھی انٹرنیشنل ائرپورٹ سے 20 مئی 2016 کو گرفتار کیا تھا اور دہلی کے تیہاڑ جیل میں بند کردیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ  جیل میں قید ہوکر تقریبا پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس مقدمہ کی ابتدائی سماعت بھی نہیں ہوئی ہے۔  اور چونکہ کیس میں جانچ پڑتال کرنے والے گواہوں کی کل تعداد 363 ہے، مستقبل قریب میں مقدمے کی سماعت کے مکمل ہونے کا کوئی امکان بھی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک الزامات طئے ہی نہیں کئے گئےہیں۔

جیل میں بند ایسے بہت سارے ملزمین ہیں جن کی چارج شیٹ ہزاروں صفحات کی ہیں اور سینکڑوں گواہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ  ایسے مقدمات کی سماعت دو ایک برس میں ختم ہونے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی ۔  عبدالواحد نے اب خود ہی پہل کرکے اپنے مقدمہ کی سماعت تیز کرنے اور اُسے ضمانت پر رہا کرنے کی اپیل ایڈوکیٹ ایم ایس خان، ایڈوکیٹ قیصر خان، ایڈوکیٹ پرشانت پرکاش اور ایڈوکیٹ انکیت  کی معرفت سے داخل کی ہے۔

خیال رہے کہ کسی بھی مقدمہ میں غیر معمولی تاخیر کی وجہ سے ملزمین کے دوسرے بہت سے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے اس لئے سپریم کورٹ نے اس قسم کی تاخیر کو دستور ہند کی دفعہ 21 کی خلاف ورزی ٹھہرایا ہے۔

دوسری طرف این آئی اے کا حال یہ ہے کہ اس کے اسپیشل کورٹس میں یو اے پی اے قانون کے تحت گرفتار ملزمین کے علاوہ بھی دوسرے معاملات پیش ہوتے رہتے ہیں اور بار بار سماعت ملتوی کیا جانا عام بات ہے جس کا دورانیہ ایک ماہ سے کم نہیں ہوتا۔ اس طرح یہ معاملات برسہا برس تک یونہی ٹلتے رہتے ہیں اور ملزمین عدالتوں میں سماعت اور فیصلہ کے بغیر اپنی زندگی کے قیمتی دن گنوا دیتے ہیں۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ دہلی ہائی کورٹ اس ضمن میں کیا موقف اختیار کرتا ہے اور درخواست کنندہ ملزم کو کس قسم کی راحت فراہم کرتا ہے۔    


Share: